عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، خودمختار فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے چینی اخباری چینل سی جی ٹی این (CGTN) کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے فروغ میں عوامی جمہوریہ چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری عرب دنیا تہران اور ریاض کے درمیان اچھے تعلقات کے قیام سے خوش ہے۔
واضح رہے کہ مورخہ یکم مارچ 2023ع کو ایران اور سعودی عرب نے چین میں دو طرفہ سمجھوتے پر دستخط کئے، جس کے بعد مقرر ہؤا کہ دو ملکوں کے وزرائے خارجہ ملاقات کریں، یہ ملاقات چھ اپریل کو بیجنگ میں انجام پائی اور دو وزرائے خارجہ نے مشرکہ بیان جاری کرکے تعاون کے فروغ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے پر اتفاق کیا۔
محمود عباس نے چینی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "[ریاض میں] چین_عرب اجلاسس نے ایک اہم سگنل بھیج دیا تھا۔ ہم بہت خوش ہیں کہ چین اسی اجلاس کی رو سے عرب مسائل میں پیشرفت کو آگے بڑھا رہا ہے؛ اور ہمیں امید ہے کہ چین اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور امید ہے کہ چین اور عرب ممالک کے اجلاسوں کو باقاعدگی سے منعقد کیا جاتا رہے گا"۔
انھوں نے ریاض-تہران تعلقات کی بحالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کے سلسلے میں چین کا اقدام ایک منفرد اقدام تھا، بہت سے ممالک اس طرح کا اقدام کرنے مین نکام رہے، جبکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات طویل المدت اور سنجیدہ تھے اور کوئی بھی ملک ان اختلافات کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا؛ تاہم چین کی نیک نیتی اور خیر سگالی نے "معجزہ خلق کیا"۔
ان کا کہنا تھا: "میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کو ایک معجزہ سمجھتا ہوں اور پوری عرب دنیا اس کا خیر مقدم کر رہی ہے؛ ہم اس مصالحت میں چین کے کردار سے بہت خوشنود ہیں"۔
واضح رہے کہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے روز ہفتہ 17 جون کو، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی دعوت پر، ایک وفد کے ہمراہ تہران کا دورہ اور ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کرنے کے بعد صدر سید ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بیجنگ اور کیپ ٹاؤن میں سعودی وزیر خارجہ سے سابقہ ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بن فرحان کے دورہ تہران کو دو ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کی سمت سابقہ مثبت اقدامات کی تکمیل اور دو مسلم پڑوسی ممالک کے درمیان دوستی کا ایک نیا باب کھولنے کی راہ میں ایک مثبت اقدام قرار دیا۔ اور سعودی زیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ تعلقات کی بحالی اور دو ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات کی تقویت، نہ صرف دو قوموں کے لئے خیر و برکت کا باعث ہے، بلکہ یہ خطے اور اسلامی دنیا کے لئے بھی مثبت اثرات و نتائج کا حامل ہے۔
فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان کا جوابی دورہ ریاض دوطرفہ دلچپسی کے مسائل کے حوالے سے باہمی صلاح مشوروں کی تکمیل کے لئے مناسب موقع فراہم کرے گا۔
سعودی وزیر خارجہ نے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی کے مجوزہ دورہ ریاض کے سلسلے میں اپنے ملک کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سابقہ دعوت کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ہم مستقبل قریب میں، سعودی عرب میں، صدر رئیسی کا استقبال کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان سمجھوتہ خطے پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے دن اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، خطاب کرتے ہوئے کہا: سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی بنیادی مسئلہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ دو ملکوں کے تعلقات کی بحالی خطے اور عالم اسلام پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔
بین الاقوامی تعلقات کے لبنانی پروفیسر ڈاکٹر وسام اسماعیل کا خیال ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کا دورہ تہران، ایک نئے دور کا آغاز ہے جو سفارتی تعلقات کے انقطاع کے سابقہ دور سے بالکل مختلف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فیصل بن فرحان کے دورہ ایران کا سب سے زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ فریقین اس دورے کو تزویراتی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛ اور سعودی عرب کا یہ نیا اقدام اس ملک کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے، بالخصو اس لئے بھی کہ سعودی وزیر خارجہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے دورہ ریاض کے صرف 10 روز بعد، تہران پہنچے ہیں؛ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ آج تک ایران کو خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ گردانتا رہا ہے اور خطے کے ممالک پر ایران کے خلاف سرگرم عمل کرنے کے لئے، دباؤ ڈالتا رہا ہے۔
ڈاکٹر وسام نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ کے دورہ تہران سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاض نے علاقائی تعاون کی پالیسی کی طرف آگے بڑھنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے؛ اور سعودیوں کی یہ پالیسی مختلف علاقائی سمجھوتوں اور بالآخر خطے میں سکون و استحکام اور امریکہ کے منحوس سازشوں کی ناکامی پر منتج ہوگی۔
سعودی مصنف اور تجزیہ کار سعد بن عمر نے بھی کہا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کا دورہ ایران دو ملکوں کے مفادات کے حصول و تحفظ کی غرض سے انجام پایا ہے۔
انھوں نے اس دورے کے سلسلے میں امریکی اور صہیونی تشہیری مہم کو گھسا پٹا ہتھکنڈہ قرار دیا ہے جو ایران اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے کہا: اہم بات یہ ہے کہ یہ دورہ بذات خود سفارتی کوششوں کی تکمیل بھی ہے اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے صدر ابراہیم رئیسی کو دورہ ریاض کی دعوت کی تجدید بھی۔
عالمی مسائل کے ایرانی تجزیہ کار مہدی عزیزی کا خیال ہے ک بن فرحان کا دورہ تہران اور ایران-سعودی سمجھوتہ دو ملکوں کے درمیان تعلقات کا نیا باب ہے جو علاقائی حالات سے معرض وجود میں آیا ہے۔ ہم خطے میں امریکہ کی مسلسل بڑھتی ہوئی کمزوری کے گواہ ہیں؛ امریکی صدر بائیڈن نے چند ماہ قبل ریاض کا دورہ کیا اور حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ بھی ریاض چلے گئے اور دونوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، اور اسی حال میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سمجھوتہ بھی منعقد ہؤا اور سعودی وزیر خارجہ نے تعلقات کے فروغ کی غرض سے تہران کا دورہ کیا؛ اور اب گویا ایران اور خطے کے دوسرے عرب ممالک کے درمیان قربتوں اور کی باری ہے۔
مہدی عزیزی نے ایران-سعودی سمجھوتے سے امریکہ اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خوف و ہراس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران-سعودی سمجھوتہ یقینا خطے کے دوسرے مسائل ـ بالخصوص یمن اور فلسطین کے مسائل ـ پر اثرانداز ہوگا۔
انھوں نے کہا: دو ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تعلقات کے فروغ اور اقتصادی تعاون کی تقویت، سلامتی کے مسائل ـ بالخصوصی جہازرانی کی سلامتی اور فلسطین کے مسئلئے میں ـ باہم تعاون پر زور دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110